﷽
ازارکواوپررکھیں
کیا ازار (تہمد ،شلوار کا کپڑا ) لٹکانے سے مرد کا وضو یا نماز ٹوٹ جاتی ہے ؟ اگر ٹوٹ جاتی ہے تو صحیح حدیث سے دلیل دیں۔
جواب:
اپنی چادر یا شلوار کو ٹخنوں سے نیچے کرنا بہت سنگین جرم ہے، چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف نظررحمت سے نہیں دیکھے گا جس نے تکبر سے اپنی چادر کو لٹکایا۔‘‘ (بخاری، اللباس: ۵۷۸۸)
نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’تہبند کا جتنا حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ آگ میں ہوگا۔‘‘ (بخاری، اللباس: ۵۷۸۷)
.
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تین آدمیوں سے ہم کلام نہیں ہوں گے اور نہ ان کی طرف نظر رحمت کریں گے اور نہ ہی انہیں پاکیزہ قرار دیں گے بلکہ انہیں دردناک قسم کے عذاب سے دوچار کریں گے۔ ان میں وہ شخص بھی ہے جو اپنی شلوار یا چادر ٹخنوں سے نیچے کرتا ہے۔‘‘
(مسلم، الایمان: ۱۰۶)
.
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اپنی چادر یا شلوار کو ٹخنوں سے نیچے کرنا بہت بڑا گناہ ہے لیکن اس سے وضو نہیں ٹوٹتا،
اس سلسلہ میں درج ذیل روایت بیان کی جاتی ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکائے نماز پڑھ رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا ’’جا اور وضو کر کے آ، وہ گیا اور وضو کر کے آیا، پھر ایک آدمی کے دریافت کرنے پر آپ نے فرمایا: یہ اپنا تہبند لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا اور اللہ تعالیٰ، ٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکانے والے کی نماز قبول نہیں کرتا۔‘‘
(ابودائود، الصلوٰۃ: ۶۳۸)
لیکن محدثین کرام نے اس روایت کو قابل حجت قرار نہیں دیا۔
(نیل الاوطار ص ۵۹۹، ج ۱)
اس بناء پر ٹخنوں سے نیچے چادر یا شلوار لٹکانے والے کا وضو اور نماز تو صحیح ہے لیکن اس ممنوعہ فعل کی وجہ سے وہ سزا کا حقدار ہوگا۔
(واللہ اعلم)
.
شلوار ٹخنوں سے نیچے ہو تو وضوء ٹوٹ جاتا ہے حدیث سے وضاحت فرمائیں؟
مرعاۃ المفاتیح میں حدیث ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کپڑا لٹکا (ٹخنوں سے نیچے رکھ) کر نماز پڑھنے والا وضوء اور نماز دونوں دہرائے ۔ ’’
مرعاۃ المفاتیح ص ۴۷۷ ج۲ میں حدیث ہے:
حافظ زبیر علی زئی صاحب نے اسے حسن کہا ہے۔‘‘
’’حضرت عطاء بن یسار رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ کا ایک صحابی بیان کرتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا اور اس کا تہہ بند ٹخنوں سے نیچے تھا آپﷺنے اس کو کہا جا وضوء کر پس وہ گیا وضوء کیا پھر آیا آپﷺنے اس کو پھر کہا جا وضوء کر (گیا وضوء کیا) پھر آیا پس ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے رسول کیا ہے آپ کے لیے آپﷺ نے اس کو حکم دیا ہے وضوء کرنے کا پھر آپﷺ خاموش ہو گئے ؟ پس آپ ﷺ نے فرمایا : وہ اپنا تہہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا اللہ تبارک وتعالیٰ ٹخنوں سے نیچے تہہ بند رکھنے والے کی نماز کو قبول نہیں کرتا‘‘
.
مسبل الازار کی نماز کے متعلق بھی بیان کریں کہ اس کی نماز ہو جاتی ہے یا نہیں؟ اگر ہو جاتی ہے تو اس کی دلیل کیا ہے؟ جب کہ ٹخنوں سے نیچے کپڑا کے متعلق حکم ہے کہ «فَفِی النَّارِ» کیا ناری کپڑا میں نماز ہو جاتی ہے ۔ علماء حجاز کہتے ہیں کہ نماز ہو جاتی ہے لیکن کوئی صریح دلیل نہیں پیش کی۔ یہ فتویٰ الشیخ عبدالعزیز بن باز کا ہے۔ باقی آدمی گناہ گار ہے اور جو حدیث نماز کے مانع ہے جس میں رسول اللہ aنے اس کو کہا کہ جا کر وضو کر جس نے تین بار وضو کیا ، تو اس حدیث کو امام منذری نے ضعیف کہا ہے۔ اور علامہ مبارکپوری نے اس کو حسن کہا ہے اور امام نووی نے اس کو علی شرط المسلم کہا ہے۔اور شیخ البانی نے بھی اس کو ضعیف کہا ہے ۔ وضاحت سے آگاہ کریں؟
.
مسبل الازار کی نماز کے متعلق بھی بیان کریں کہ اس کی نماز ہو جاتی ہے یا نہیں؟ اگر ہو جاتی ہے تو اس کی دلیل کیا ہے؟ جب کہ ٹخنوں سے نیچے کپڑا کے متعلق حکم ہے کہ «فَفِی النَّارِ» کیا ناری کپڑا میں نماز ہو جاتی ہے ۔ علماء حجاز کہتے ہیں کہ نماز ہو جاتی ہے لیکن کوئی صریح دلیل نہیں پیش کی۔ یہ فتویٰ الشیخ عبدالعزیز بن باز کا ہے۔ باقی آدمی گناہ گار ہے اور جو حدیث نماز کے مانع ہے جس میں رسول اللہ aنے اس کو کہا کہ جا کر وضو کر جس نے تین بار وضو کیا ، تو اس حدیث کو امام منذری نے ضعیف کہا ہے۔ اور علامہ مبارکپوری نے اس کو حسن کہا ہے اور امام نووی نے اس کو علی شرط المسلم کہا ہے۔اور شیخ البانی نے بھی اس کو ضعیف کہا ہے ۔ وضاحت سے آگاہ کریں؟
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
یہ حدیث حسن ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ایک مرتبہ ایک آدمی تہبند لٹکائے نماز پڑھتا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا جا اور وضوء کر وہ گیا اور وضو کر کے آ گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ’’ جا اور وضو کر‘‘ وہ پھر گیا اور وضوء کر کے آیا ، اس پر ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے اسے کس سبب سے وضوء کا حکم دیا ہے۔ فرمایا کہ’’ یہ اپنا تہبند لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا اور اللہ تعالیٰ جس کا ذکر بلند ہے تہبند لٹکا کر نماز پڑھنے والے کی نماز کو قبول نہیں کرتا۔ ‘‘ (ابوداؤد، كتاب الصلاة، باب الاسبال في الصلاة مرعاة المفاتيح، ص: 477، ج:2- ذكره الهيثمي في مجمع الزوائد: ج: 5، ص: 145، وقال رواه أحمد ورجاله رجال الصحيح)
فتاوی احکام ومسائل
کتاب الصلاۃ ج 2 ص 160۔161
محدث فتویٰ
.
’درر‘ ویب سائیٹ کی سرچ کے مطابق اس روایت کو امام ذہبی رحمہ اللہ نے ’اسنادہ صالح‘ اور امام نووی رحمہ اللہ ’اسنادہ صحیح علی شرط مسلم‘ اور امام ہیثمی رحمہ اللہ نے ’رجالہ رجال الصحیح‘ اور علامہ شمس الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ نے ’اسنادہ حسن‘ اور شیخ احمد شاکر رحمہ اللہ نے اس روایت کو ’صحیح ‘ قرار دیا ہے جبکہ علامہ البانی، شیخ بن باز اور شیخ صالح العثیمین رحمہم اللہ نے اس روایت کو ’ضعیف‘ قرار دیا ہے۔ تفصیل کے لیے یہ لنک ملاحظہ فرمائیں: http://www.dorar.net/hadith...&
.
ٹخنے سے نیچے کپڑا لٹکانا:
یہ ایک ایسا پہلو ہے جس پر بہت سارے توحید پرست حضرات کوتاہی و غفلت اور باعث شرمندگی سمجھتے ہیں اور اس چيز کو حلال کرنے کے لیے طرح طرح کی تاویلات کا سہارا لیتے ہیں جوکہ نہ صرف نماز کے لیے ناقابل قبول ہے بلکہ ایک مسلمان کے لیے یہ باعث تباہی اور اللہ عز و جل کی طرف سے باعث نفرت عمل ہے مگر یہ حضرات اس اہم پہلو پر کوئی غور و فکر نہیں کرتے-
اب میں اس اہم پہلو پر مختصرا روشنی ڈالوں۔ ان شاءاللہ
سنن ابوداؤد کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکا کر نماز پڑھنے والے کو دوبارہ وضو کرنے کا حکم دیا ہے- پوری حدیث اس طرح ہے کہ:
"حضرت ابوہریرہ رض روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک صحابی اپنی چادر ٹخنوں پر لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا، اس کو رسول اللہ ۖ نے حکم دیا کہ جاؤ اور وضو کرو- وہ (دوبارہ) وضو کرکے آیا- اسے رسول اللہ ۖ نے فرمایا "جاؤ اور وضو کرو" وہ گیا اور (تیسری مرتبہ) وضو کرکے آیا تو ایک صحابی نے سوال کیا اے اللہ کےرسول ۖ! آپ نے اسے وضو کرنے کا حکم دیا، کیا وجہ ہے؟ رسول اللہ ۖ نے جواب دیا "وہ اپنی چادر لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا اور چادر لٹکانے والے کی نماز اللہ تعالی قبول نہیں کرتا-"
(سنن ابو داؤد، کتاب الصلواۃ، باب الاسبال فی الصلواۃ)
اس کی سند میں ابوجعفر راوی ہے جس پر محدثین نے کلام کیا ہے- البتہ امام نووی رح نے اس حدیث کو " صحیح علی شرط مسلم" کہا ہے-
(راوہ ابو داؤد باسناد صحیح علی شرط مسلم- ریاض الصالحین : 35- طبع دارالمامون دمشق)
اور اس کے متعلف حافظ ابن حجر نے فرمایا ہے "ابو جعفر المؤذن الانصاری المدنی مقبول" (مرعاۃ المفاتیح :2/477)
اور عون المعبود شرح سنن ابو داؤد میں ہے " سندہ حسن" [ اس کی سند حسن ہے ] (عون المعبود، شرح سنن ابی داؤد: 2/100 طبع بیروت)
اور امام ذھبی رح نے کتاب الکبائر میں ذکر کیا ہے ' وھو علی شرط مسلم ان شاء اللہ تعالی" (کتاب الکبائر للامام الذھبی رحمہ اللہ :131 طبع دار ابن حزم کبیرہ گناہ :52)
.
ایک اور جگہ ہے کہ:
حضرت ابو ذرغفاری رض کی روایت میں نبی ۖ کا یہ فرمان ہے کہ ٹخنوں سے نیچے کپڑا رکھنے والے مرد پر اللہ قیامت کے دن نظر رحمت نہیں ڈالے گا:
" ابو ذرغفاری رض بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ کا ارشاد ہے: تین آدمی ہیں، جن سے اللہ تعالی قیامت کے دن کلام نہیں کرے گا اور ان کی طرف نظر نہیں کرے گا اور ان کو گناھوں سے پاک نہیں کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے" یہ کلمات رسول اللہ ۖ نے تین مرتبہ فرمائے- حضرت ابوذر نے پوچھا یہ لوگ نامراد ہوگئے اور نقصان اٹھایا، اللہ کے رسول ۖ! یہ لوگ کون ہیں؟ رسول اللہ ۖ نے جواب دیا کہ "مسبل ازار" (یعنی چادر، تہ بند یا شلوار وغیرہ ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا)، دوسرا "منان" (احسان کرکے جتلانے والا)، تیسرا جھوٹی قسم سے مال فروحت کرنے والا"-
( مسلم: 1/ 71- سنن ابی داؤد، کتاب اللباس، سنن ابن ماجہ، ابواب التجارات، سنن نسائی، کتاب البیوع و کتاب الزکواۃ- ان کے علاوہ اور بھی کتب حدیث میں یہ حدیث موجود ہے-
ان احادیث سے یہ ہی ثابت ہوتا ہے کہ ٹحنے سے نیچے کپڑا لٹکانے والے کی نہ نماز ہوتی ہے اور نہ ہی وضو قائم رہتا ہے۔۔۔۔اور اس کی بڑی وعید سنائی گئی ہے مگر ہمارے مسلمانوں کو اللہ ہی عقل سلیم عطا فرمائے کہ اللہ کے احکام اور رسول ۖ کے فرمان کے مطابق ہی دین پہ چلنا باعث رحمت و نجات ہے ورنہ دنیا میں بھی لعنت کے حقدار ٹھریں گے اور قیامت کے دن بھی اللہ کی ذات بابرکت نفرت کی نگاھ سے دیکھے گی۔
.
شلوار یا چادر کہاں تک باندھنی چاہیے اس کا بھی واضح حکم آچکا ہے کہ شلوار، چادر یا پھر آج کل پینٹ کو ٹخنوں سے اوپر اور نصف پنڈلی کے نیجے تک کہیں بھی آپ اس کو باندھ یا پہن سکتے ہیں۔
ایک جگہ رسول مقبول ۖ کا ارشاد گرامی ہے:
"حضرت انس رض سے روایت ہے کہ نبی اکرم ۖ نے فرمایا: ازار نصف پنڈلی ٹخنوں تک ہے- اس سے نیچے کوئی خیر نہیں"-
(مسند امام احمد:3/140)
ایک اور حدیث میں آتا ہے :
" حضرت مغیرہ رض بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی پاک ۖ کو دیکھا، آپ ۖ نے سفیان کا کولہا پکڑ کر اسے کہا اے سفیان بن سہل! اپنی چادر نہ لٹکاؤ کیونکہ ٹخنوں سے نیچے چادر لٹکانے والوں کو اللہ تعالی پسند نہیں کرتا-"
(مسند امام احمد 4/ 246- وقال الترمذی ھذا حدیث حسن صحیح)
یہاں پر ایک بات بتاتا چلوں کہ بعض لوگ یہ تاویل نکالتے ہیں کہ " اگر کوئی تکبر سے شلوار، کپڑا لٹکائے تو اسے گناھ ہوگا ورنہ نہیں اور وہ ان پڑھ اور کم علم لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں کہ تکبر کے ساتھ لٹکانے والے کے اوپر جہنم کی وعید ہے اور اس کی دلیل ابوبکر رض کا یہ واقعہ بتاتے ہیں-
"حضرت عبداللہ بن عمر رض کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ۖ کو فرماتے ہوئے سنا: " جس آدمی نے تکبر سے چادر لٹکائی اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا-" اور عبداللہ بن عمر رض حدیث بیان کرتے تھے کہ نبی پاک ۖ نے ان کو دیکھا، ان پر نئی چادر تھی- عبداللہ رض کہتے ہیں کہ آپ ۖ نے پوچھا "یہ کون ہے؟" میں نے جواب دیا "میں عبداللہ ہوں-" آپ ۖ نے فرمایا کہ " اگر تو واقعی عبداللہ ہے یعنی اللہ کا بندہ ہے تو اپنی چادر اونچی کر-" میں نے چادر اونچی کرلی، پھر فرمایا " اور اونچی کر" حتی کہ میں نے نصف پنڈلی تک کرلی- پھر آپ ۖ ابوبکر صدیق رض کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: " جس نے تکبر سے اپنا کپڑا لٹکایا اللہ اس کی طرف قیامت کےدن نہیں دیکھے گا-" ابوبکر رض نے عرض کی "میری چادر کبھی کبھی ڈھیلی ہوجاتی ہے-" آپ ۖ نے فرمایا "تو ان میں سے نہیں ہے-"
(مسند الامام احمد:2/147)
اب یہاں یہ بات قابل غور و فکر ہے کہ رسول اللہ ۖ نے حضرت عبداللہ رض کو فرمایا تھا: [ ان کنت عبداللہ] "اگر تو واقعی اللہ کا بندہ ہے" یعنی تیرا ایمان اللہ پر ہے اور اللہ کو مانتا ہے تو اپنی چادر ٹخنوں سے اوپر کرو- کیا عبداللہ بن عمر رض متکبر تھے؟ حضرت مغیرہ رض کو حکم دیا تھا: [ لا تسبل ازارک] "ٹخنوں پر چادر کا کوئی حکم نہیں-" کیا وہ سب متکبر تھے؟ نہیں، وہ متکبر نہیں تھے بلکہ رسول اللہ ۖ نے نے [ موضع الازار] اور [ ازرۃ المؤمن] کے الفاظ بیان فرماکر صحابہ کرام رض کی ٹانگيں پکڑ پکڑ کر اور پنڈلیوں پر اپنے ہاتھ مبارک رکھ رکھ کر چادر اور شلوار کی جگہ متعین کر دی ہے- اب اگر مرد اپنے کپڑے لٹکاکر یا پینٹ و شلوار ٹخنوں سے نیچے کرکے چلیں یا نماز پڑھیں تو حدیث میں [ فی النّار] کے لفظ ہیں ان کے متعلق رسول اللہ ۖ نے جہنم کی وعید سنائی ہے اور اگر ساتھ تکبر اور غرور بھی ہے تو ان کے لیے [لم ینظر اللہ الیہ یوم القیامۃ] کی بھی وعید ہے جیسا کہ سنن ابی داؤد (2/114)، سنن ابن ماجہ، طبع سرگودھا (264) اور مؤطا امام مالک (366) مطبع مجتبائی دہلی وغیرہ میں ہے-
.
کیوں کہ وضو اور نماز کے ٹوٹ جانے والی حدیث کو کچھ نے صحیح کہا ہے لیکن حقیقت یہی معلوم ہوئی ہے کہ وہ حدیث ضعیف ہے ، اس میں ابو جعفر راوی ہے جسے بہت سے محدثین نے مجھول کہا ہے _______حافظ ابن حجر رح نے بھی یہی کہا ہے ___________اور بھی بہت سوں نے ایسا ہی کہا ہے تو خلاصہ میرے نزدیک تو یہ ہوا کہ ایسا کرنے والے کی نماز نہیں ٹوٹتی البتہ ، وہ گناہ گار ہو گا ____________اور یہی فتویٰ شاید شیخ ابن باز رح کا بھی ہے
.
یہ ایک ہی روایت مل رہی ہے اس معاملہ میں بار بار __________اور اسی کو زیادہ تر محدثین نے ضعیف کہا ہے ______ضعیف ابو داؤد # ١٢٤ ، ابو داؤد #٦٣٨ ، بیہقی #٢٤١/٢ ، احمد #٣٧٩ ، اس کی سند میں ابو جعفر راوی ہے کہ جس سے بیان کرنے والا یہہی بن ابی کثیر ہے اور وہ انصاری مدنی موزن ہے جو کہ مجہول ہے جیسا کہ امام ابن قطان رح نے یہی کھا ہے اور تقریب التھذیب میں حافظ ابن حجر رح رقمطراز ہیں کہ اس کی حدیث کمزور ہے شیخ البانی رح بیان کرتے ہیں کہ جس نے مذکورہ حدیث کی سند کو صحیح کہا اسے وحم ہوا ہے _________-المشکاہ # ٧٦١ ، ٢٣٨/١ ، امام شوکانی رح اور امام منظری رح نے بھی ابو جعفر راوی کو مجہول قرار دیا ہے ___نیل الا و طار # ٥٩٩٩/١ ، مختصر سنن ابو داؤد #٣٢٤/١
ازارکواوپررکھیں
کیا ازار (تہمد ،شلوار کا کپڑا ) لٹکانے سے مرد کا وضو یا نماز ٹوٹ جاتی ہے ؟ اگر ٹوٹ جاتی ہے تو صحیح حدیث سے دلیل دیں۔
جواب:
اپنی چادر یا شلوار کو ٹخنوں سے نیچے کرنا بہت سنگین جرم ہے، چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف نظررحمت سے نہیں دیکھے گا جس نے تکبر سے اپنی چادر کو لٹکایا۔‘‘ (بخاری، اللباس: ۵۷۸۸)
نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’تہبند کا جتنا حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ آگ میں ہوگا۔‘‘ (بخاری، اللباس: ۵۷۸۷)
.
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تین آدمیوں سے ہم کلام نہیں ہوں گے اور نہ ان کی طرف نظر رحمت کریں گے اور نہ ہی انہیں پاکیزہ قرار دیں گے بلکہ انہیں دردناک قسم کے عذاب سے دوچار کریں گے۔ ان میں وہ شخص بھی ہے جو اپنی شلوار یا چادر ٹخنوں سے نیچے کرتا ہے۔‘‘
(مسلم، الایمان: ۱۰۶)
.
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اپنی چادر یا شلوار کو ٹخنوں سے نیچے کرنا بہت بڑا گناہ ہے لیکن اس سے وضو نہیں ٹوٹتا،
اس سلسلہ میں درج ذیل روایت بیان کی جاتی ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکائے نماز پڑھ رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا ’’جا اور وضو کر کے آ، وہ گیا اور وضو کر کے آیا، پھر ایک آدمی کے دریافت کرنے پر آپ نے فرمایا: یہ اپنا تہبند لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا اور اللہ تعالیٰ، ٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکانے والے کی نماز قبول نہیں کرتا۔‘‘
(ابودائود، الصلوٰۃ: ۶۳۸)
لیکن محدثین کرام نے اس روایت کو قابل حجت قرار نہیں دیا۔
(نیل الاوطار ص ۵۹۹، ج ۱)
اس بناء پر ٹخنوں سے نیچے چادر یا شلوار لٹکانے والے کا وضو اور نماز تو صحیح ہے لیکن اس ممنوعہ فعل کی وجہ سے وہ سزا کا حقدار ہوگا۔
(واللہ اعلم)
.
شلوار ٹخنوں سے نیچے ہو تو وضوء ٹوٹ جاتا ہے حدیث سے وضاحت فرمائیں؟
مرعاۃ المفاتیح میں حدیث ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کپڑا لٹکا (ٹخنوں سے نیچے رکھ) کر نماز پڑھنے والا وضوء اور نماز دونوں دہرائے ۔ ’’
مرعاۃ المفاتیح ص ۴۷۷ ج۲ میں حدیث ہے:
حافظ زبیر علی زئی صاحب نے اسے حسن کہا ہے۔‘‘
’’حضرت عطاء بن یسار رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ کا ایک صحابی بیان کرتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا اور اس کا تہہ بند ٹخنوں سے نیچے تھا آپﷺنے اس کو کہا جا وضوء کر پس وہ گیا وضوء کیا پھر آیا آپﷺنے اس کو پھر کہا جا وضوء کر (گیا وضوء کیا) پھر آیا پس ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے رسول کیا ہے آپ کے لیے آپﷺ نے اس کو حکم دیا ہے وضوء کرنے کا پھر آپﷺ خاموش ہو گئے ؟ پس آپ ﷺ نے فرمایا : وہ اپنا تہہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا اللہ تبارک وتعالیٰ ٹخنوں سے نیچے تہہ بند رکھنے والے کی نماز کو قبول نہیں کرتا‘‘
.
مسبل الازار کی نماز کے متعلق بھی بیان کریں کہ اس کی نماز ہو جاتی ہے یا نہیں؟ اگر ہو جاتی ہے تو اس کی دلیل کیا ہے؟ جب کہ ٹخنوں سے نیچے کپڑا کے متعلق حکم ہے کہ «فَفِی النَّارِ» کیا ناری کپڑا میں نماز ہو جاتی ہے ۔ علماء حجاز کہتے ہیں کہ نماز ہو جاتی ہے لیکن کوئی صریح دلیل نہیں پیش کی۔ یہ فتویٰ الشیخ عبدالعزیز بن باز کا ہے۔ باقی آدمی گناہ گار ہے اور جو حدیث نماز کے مانع ہے جس میں رسول اللہ aنے اس کو کہا کہ جا کر وضو کر جس نے تین بار وضو کیا ، تو اس حدیث کو امام منذری نے ضعیف کہا ہے۔ اور علامہ مبارکپوری نے اس کو حسن کہا ہے اور امام نووی نے اس کو علی شرط المسلم کہا ہے۔اور شیخ البانی نے بھی اس کو ضعیف کہا ہے ۔ وضاحت سے آگاہ کریں؟
.
مسبل الازار کی نماز کے متعلق بھی بیان کریں کہ اس کی نماز ہو جاتی ہے یا نہیں؟ اگر ہو جاتی ہے تو اس کی دلیل کیا ہے؟ جب کہ ٹخنوں سے نیچے کپڑا کے متعلق حکم ہے کہ «فَفِی النَّارِ» کیا ناری کپڑا میں نماز ہو جاتی ہے ۔ علماء حجاز کہتے ہیں کہ نماز ہو جاتی ہے لیکن کوئی صریح دلیل نہیں پیش کی۔ یہ فتویٰ الشیخ عبدالعزیز بن باز کا ہے۔ باقی آدمی گناہ گار ہے اور جو حدیث نماز کے مانع ہے جس میں رسول اللہ aنے اس کو کہا کہ جا کر وضو کر جس نے تین بار وضو کیا ، تو اس حدیث کو امام منذری نے ضعیف کہا ہے۔ اور علامہ مبارکپوری نے اس کو حسن کہا ہے اور امام نووی نے اس کو علی شرط المسلم کہا ہے۔اور شیخ البانی نے بھی اس کو ضعیف کہا ہے ۔ وضاحت سے آگاہ کریں؟
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
یہ حدیث حسن ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ایک مرتبہ ایک آدمی تہبند لٹکائے نماز پڑھتا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا جا اور وضوء کر وہ گیا اور وضو کر کے آ گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ’’ جا اور وضو کر‘‘ وہ پھر گیا اور وضوء کر کے آیا ، اس پر ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے اسے کس سبب سے وضوء کا حکم دیا ہے۔ فرمایا کہ’’ یہ اپنا تہبند لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا اور اللہ تعالیٰ جس کا ذکر بلند ہے تہبند لٹکا کر نماز پڑھنے والے کی نماز کو قبول نہیں کرتا۔ ‘‘ (ابوداؤد، كتاب الصلاة، باب الاسبال في الصلاة مرعاة المفاتيح، ص: 477، ج:2- ذكره الهيثمي في مجمع الزوائد: ج: 5، ص: 145، وقال رواه أحمد ورجاله رجال الصحيح)
فتاوی احکام ومسائل
کتاب الصلاۃ ج 2 ص 160۔161
محدث فتویٰ
.
’درر‘ ویب سائیٹ کی سرچ کے مطابق اس روایت کو امام ذہبی رحمہ اللہ نے ’اسنادہ صالح‘ اور امام نووی رحمہ اللہ ’اسنادہ صحیح علی شرط مسلم‘ اور امام ہیثمی رحمہ اللہ نے ’رجالہ رجال الصحیح‘ اور علامہ شمس الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ نے ’اسنادہ حسن‘ اور شیخ احمد شاکر رحمہ اللہ نے اس روایت کو ’صحیح ‘ قرار دیا ہے جبکہ علامہ البانی، شیخ بن باز اور شیخ صالح العثیمین رحمہم اللہ نے اس روایت کو ’ضعیف‘ قرار دیا ہے۔ تفصیل کے لیے یہ لنک ملاحظہ فرمائیں: http://www.dorar.net/hadith...&
.
ٹخنے سے نیچے کپڑا لٹکانا:
یہ ایک ایسا پہلو ہے جس پر بہت سارے توحید پرست حضرات کوتاہی و غفلت اور باعث شرمندگی سمجھتے ہیں اور اس چيز کو حلال کرنے کے لیے طرح طرح کی تاویلات کا سہارا لیتے ہیں جوکہ نہ صرف نماز کے لیے ناقابل قبول ہے بلکہ ایک مسلمان کے لیے یہ باعث تباہی اور اللہ عز و جل کی طرف سے باعث نفرت عمل ہے مگر یہ حضرات اس اہم پہلو پر کوئی غور و فکر نہیں کرتے-
اب میں اس اہم پہلو پر مختصرا روشنی ڈالوں۔ ان شاءاللہ
سنن ابوداؤد کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکا کر نماز پڑھنے والے کو دوبارہ وضو کرنے کا حکم دیا ہے- پوری حدیث اس طرح ہے کہ:
"حضرت ابوہریرہ رض روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک صحابی اپنی چادر ٹخنوں پر لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا، اس کو رسول اللہ ۖ نے حکم دیا کہ جاؤ اور وضو کرو- وہ (دوبارہ) وضو کرکے آیا- اسے رسول اللہ ۖ نے فرمایا "جاؤ اور وضو کرو" وہ گیا اور (تیسری مرتبہ) وضو کرکے آیا تو ایک صحابی نے سوال کیا اے اللہ کےرسول ۖ! آپ نے اسے وضو کرنے کا حکم دیا، کیا وجہ ہے؟ رسول اللہ ۖ نے جواب دیا "وہ اپنی چادر لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا اور چادر لٹکانے والے کی نماز اللہ تعالی قبول نہیں کرتا-"
(سنن ابو داؤد، کتاب الصلواۃ، باب الاسبال فی الصلواۃ)
اس کی سند میں ابوجعفر راوی ہے جس پر محدثین نے کلام کیا ہے- البتہ امام نووی رح نے اس حدیث کو " صحیح علی شرط مسلم" کہا ہے-
(راوہ ابو داؤد باسناد صحیح علی شرط مسلم- ریاض الصالحین : 35- طبع دارالمامون دمشق)
اور اس کے متعلف حافظ ابن حجر نے فرمایا ہے "ابو جعفر المؤذن الانصاری المدنی مقبول" (مرعاۃ المفاتیح :2/477)
اور عون المعبود شرح سنن ابو داؤد میں ہے " سندہ حسن" [ اس کی سند حسن ہے ] (عون المعبود، شرح سنن ابی داؤد: 2/100 طبع بیروت)
اور امام ذھبی رح نے کتاب الکبائر میں ذکر کیا ہے ' وھو علی شرط مسلم ان شاء اللہ تعالی" (کتاب الکبائر للامام الذھبی رحمہ اللہ :131 طبع دار ابن حزم کبیرہ گناہ :52)
.
ایک اور جگہ ہے کہ:
حضرت ابو ذرغفاری رض کی روایت میں نبی ۖ کا یہ فرمان ہے کہ ٹخنوں سے نیچے کپڑا رکھنے والے مرد پر اللہ قیامت کے دن نظر رحمت نہیں ڈالے گا:
" ابو ذرغفاری رض بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ کا ارشاد ہے: تین آدمی ہیں، جن سے اللہ تعالی قیامت کے دن کلام نہیں کرے گا اور ان کی طرف نظر نہیں کرے گا اور ان کو گناھوں سے پاک نہیں کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے" یہ کلمات رسول اللہ ۖ نے تین مرتبہ فرمائے- حضرت ابوذر نے پوچھا یہ لوگ نامراد ہوگئے اور نقصان اٹھایا، اللہ کے رسول ۖ! یہ لوگ کون ہیں؟ رسول اللہ ۖ نے جواب دیا کہ "مسبل ازار" (یعنی چادر، تہ بند یا شلوار وغیرہ ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا)، دوسرا "منان" (احسان کرکے جتلانے والا)، تیسرا جھوٹی قسم سے مال فروحت کرنے والا"-
( مسلم: 1/ 71- سنن ابی داؤد، کتاب اللباس، سنن ابن ماجہ، ابواب التجارات، سنن نسائی، کتاب البیوع و کتاب الزکواۃ- ان کے علاوہ اور بھی کتب حدیث میں یہ حدیث موجود ہے-
ان احادیث سے یہ ہی ثابت ہوتا ہے کہ ٹحنے سے نیچے کپڑا لٹکانے والے کی نہ نماز ہوتی ہے اور نہ ہی وضو قائم رہتا ہے۔۔۔۔اور اس کی بڑی وعید سنائی گئی ہے مگر ہمارے مسلمانوں کو اللہ ہی عقل سلیم عطا فرمائے کہ اللہ کے احکام اور رسول ۖ کے فرمان کے مطابق ہی دین پہ چلنا باعث رحمت و نجات ہے ورنہ دنیا میں بھی لعنت کے حقدار ٹھریں گے اور قیامت کے دن بھی اللہ کی ذات بابرکت نفرت کی نگاھ سے دیکھے گی۔
.
شلوار یا چادر کہاں تک باندھنی چاہیے اس کا بھی واضح حکم آچکا ہے کہ شلوار، چادر یا پھر آج کل پینٹ کو ٹخنوں سے اوپر اور نصف پنڈلی کے نیجے تک کہیں بھی آپ اس کو باندھ یا پہن سکتے ہیں۔
ایک جگہ رسول مقبول ۖ کا ارشاد گرامی ہے:
"حضرت انس رض سے روایت ہے کہ نبی اکرم ۖ نے فرمایا: ازار نصف پنڈلی ٹخنوں تک ہے- اس سے نیچے کوئی خیر نہیں"-
(مسند امام احمد:3/140)
ایک اور حدیث میں آتا ہے :
" حضرت مغیرہ رض بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی پاک ۖ کو دیکھا، آپ ۖ نے سفیان کا کولہا پکڑ کر اسے کہا اے سفیان بن سہل! اپنی چادر نہ لٹکاؤ کیونکہ ٹخنوں سے نیچے چادر لٹکانے والوں کو اللہ تعالی پسند نہیں کرتا-"
(مسند امام احمد 4/ 246- وقال الترمذی ھذا حدیث حسن صحیح)
یہاں پر ایک بات بتاتا چلوں کہ بعض لوگ یہ تاویل نکالتے ہیں کہ " اگر کوئی تکبر سے شلوار، کپڑا لٹکائے تو اسے گناھ ہوگا ورنہ نہیں اور وہ ان پڑھ اور کم علم لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں کہ تکبر کے ساتھ لٹکانے والے کے اوپر جہنم کی وعید ہے اور اس کی دلیل ابوبکر رض کا یہ واقعہ بتاتے ہیں-
"حضرت عبداللہ بن عمر رض کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ۖ کو فرماتے ہوئے سنا: " جس آدمی نے تکبر سے چادر لٹکائی اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا-" اور عبداللہ بن عمر رض حدیث بیان کرتے تھے کہ نبی پاک ۖ نے ان کو دیکھا، ان پر نئی چادر تھی- عبداللہ رض کہتے ہیں کہ آپ ۖ نے پوچھا "یہ کون ہے؟" میں نے جواب دیا "میں عبداللہ ہوں-" آپ ۖ نے فرمایا کہ " اگر تو واقعی عبداللہ ہے یعنی اللہ کا بندہ ہے تو اپنی چادر اونچی کر-" میں نے چادر اونچی کرلی، پھر فرمایا " اور اونچی کر" حتی کہ میں نے نصف پنڈلی تک کرلی- پھر آپ ۖ ابوبکر صدیق رض کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: " جس نے تکبر سے اپنا کپڑا لٹکایا اللہ اس کی طرف قیامت کےدن نہیں دیکھے گا-" ابوبکر رض نے عرض کی "میری چادر کبھی کبھی ڈھیلی ہوجاتی ہے-" آپ ۖ نے فرمایا "تو ان میں سے نہیں ہے-"
(مسند الامام احمد:2/147)
اب یہاں یہ بات قابل غور و فکر ہے کہ رسول اللہ ۖ نے حضرت عبداللہ رض کو فرمایا تھا: [ ان کنت عبداللہ] "اگر تو واقعی اللہ کا بندہ ہے" یعنی تیرا ایمان اللہ پر ہے اور اللہ کو مانتا ہے تو اپنی چادر ٹخنوں سے اوپر کرو- کیا عبداللہ بن عمر رض متکبر تھے؟ حضرت مغیرہ رض کو حکم دیا تھا: [ لا تسبل ازارک] "ٹخنوں پر چادر کا کوئی حکم نہیں-" کیا وہ سب متکبر تھے؟ نہیں، وہ متکبر نہیں تھے بلکہ رسول اللہ ۖ نے نے [ موضع الازار] اور [ ازرۃ المؤمن] کے الفاظ بیان فرماکر صحابہ کرام رض کی ٹانگيں پکڑ پکڑ کر اور پنڈلیوں پر اپنے ہاتھ مبارک رکھ رکھ کر چادر اور شلوار کی جگہ متعین کر دی ہے- اب اگر مرد اپنے کپڑے لٹکاکر یا پینٹ و شلوار ٹخنوں سے نیچے کرکے چلیں یا نماز پڑھیں تو حدیث میں [ فی النّار] کے لفظ ہیں ان کے متعلق رسول اللہ ۖ نے جہنم کی وعید سنائی ہے اور اگر ساتھ تکبر اور غرور بھی ہے تو ان کے لیے [لم ینظر اللہ الیہ یوم القیامۃ] کی بھی وعید ہے جیسا کہ سنن ابی داؤد (2/114)، سنن ابن ماجہ، طبع سرگودھا (264) اور مؤطا امام مالک (366) مطبع مجتبائی دہلی وغیرہ میں ہے-
.
کیوں کہ وضو اور نماز کے ٹوٹ جانے والی حدیث کو کچھ نے صحیح کہا ہے لیکن حقیقت یہی معلوم ہوئی ہے کہ وہ حدیث ضعیف ہے ، اس میں ابو جعفر راوی ہے جسے بہت سے محدثین نے مجھول کہا ہے _______حافظ ابن حجر رح نے بھی یہی کہا ہے ___________اور بھی بہت سوں نے ایسا ہی کہا ہے تو خلاصہ میرے نزدیک تو یہ ہوا کہ ایسا کرنے والے کی نماز نہیں ٹوٹتی البتہ ، وہ گناہ گار ہو گا ____________اور یہی فتویٰ شاید شیخ ابن باز رح کا بھی ہے
.
یہ ایک ہی روایت مل رہی ہے اس معاملہ میں بار بار __________اور اسی کو زیادہ تر محدثین نے ضعیف کہا ہے ______ضعیف ابو داؤد # ١٢٤ ، ابو داؤد #٦٣٨ ، بیہقی #٢٤١/٢ ، احمد #٣٧٩ ، اس کی سند میں ابو جعفر راوی ہے کہ جس سے بیان کرنے والا یہہی بن ابی کثیر ہے اور وہ انصاری مدنی موزن ہے جو کہ مجہول ہے جیسا کہ امام ابن قطان رح نے یہی کھا ہے اور تقریب التھذیب میں حافظ ابن حجر رح رقمطراز ہیں کہ اس کی حدیث کمزور ہے شیخ البانی رح بیان کرتے ہیں کہ جس نے مذکورہ حدیث کی سند کو صحیح کہا اسے وحم ہوا ہے _________-المشکاہ # ٧٦١ ، ٢٣٨/١ ، امام شوکانی رح اور امام منظری رح نے بھی ابو جعفر راوی کو مجہول قرار دیا ہے ___نیل الا و طار # ٥٩٩٩/١ ، مختصر سنن ابو داؤد #٣٢٤/١
